دوحہ ،19؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ترک فوجی دستے قطری فورسز کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے لیے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ ان مشقوں کے لیے ترک فوجیوں کی تعیناتی اس تیز رفتار قانون سازی کے بعد ممکن ہوئی، جو انقرہ کی پارلیمان نے قطر کا بحران پیدا ہونے کے بعد کی تھی۔خلیجی عرب ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ سے پیر انیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ ٹیلی وژن نے آج پیر کے روز بتایا کہ ترک فوجی دستے کل اتوار اٹھارہ جون کو قطر پہنچے تھے۔ساتھ ہی الجزیرہ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک ایسی ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے، جس میں بکتر بند گاڑیوں میں سوار ترک فوجی دستوں کو قطر کی سڑکوں پر متحرک حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔
قطر کے ساتھ سعودی عرب اور چند دیگر خلیجی عرب ریاستوں کی طرف سے سفارتی تعلقات منقطع کیے جانے اور اس امارت کی انہی ملکوں کی طرف سے زمینی، فضائی اور سمندری ناکہ بندی کیے جانے کے بعد جو بحران پیدا ہوا تھا، اس کے ردعمل میں صرف دو دن بعد ہی ترک پارلیمان نے سات جون کو بہت جلدی میں ایسی قانون سازی کی تھی، جس کے تحت قطر کے ایک فوجی اڈے پر ترک فوجی دستوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی گئی تھی۔
قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے فیصلے کے بعد خلیج فارس کے خطے میں جو صورت حال پیدا ہوئی ہے، اسے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اس علاقے میں پیدا ہونے والے شدید ترین سیاسی بحران کا نام دیا جا رہا ہے۔قطر میں ایک فوجی اڈے پر اس وقت تعینات ترک فوجی دستوں کی تعداد قریب 90بتائی گئی ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق ترک اور قطری فوجی دستوں نے اس عرب ریاست میں اپنی پہلی مشترکہ فوجی مشق کل اتوار کے روز طارق بن زیادہ ملٹری بیس پر کی۔قطری فوج کے مطابق دونوں ملکوں کے فوجی دستوں نے اب تک جو مشترکہ جنگی مشقیں کی ہیں اور جو آئندہ کی جائیں گی، ان کا منصوبہ کافی عرصہ پہلے تیار کیا گیا تھا۔